کردار متسیہ کا معنی ہے-مچھلی۔ اس آسن میں جسم کی شکل مچھلی جیسی بنتی ہے، اس لئے : یہ متسیہ آسن کہلاتا ہے۔ یہ آسن سینہ کو چوڑا اور صحت مند بنائے رکھنے میں مددکر تاہے۔ پلاونی پرانایام کے ساتھ اس آسن کی حالت میں طویل وقت تک پانی میں تیر سکتے ہیں۔ متسیہ آسن کا اصول پہلے پدماسن لگاکر بیٹھ جائیں۔ زمین پر بچھے ہوئے آسن پر پدماسن لگاکر سیدھے بیٹھ جائیں۔ پھر پدماسن کی حالت میں ہی احتیاط سے پیچھےکی طرف چت ہوکر لیٹ جائیں۔ دھیان رہے کہ لیٹتے وقت دونوں گھٹنے زمین سے ہی سٹے رہیں۔ پھر دونوں ہاتھوں کی مدد سے شکھاستھان کو زمین پر ٹکائیں۔ اس کے بعد بائیں پیرکے انگوٹھے اور دونوں کہنیوں کو زمین سے لگائے رکھیں۔ پھر پیروں کو پدماسن کی حالت میں ہی رکھکر ہاتھ کی مدد سے احتیاطاً پیچھےکی طرف چت ہوکر لیٹ جائیں۔ گھٹنے، کولہے اور پیشانی کے نوک مقام کو زمین پر لگائیں رکھیں۔ پیشانی کے نیچے کوئی نرم کپڑا ضرور رکھیں۔ بائیں ہاتھ سے داہنے پیر کا انگوٹھا اور داہنے ہاتھ سے بائیں پیر کا انگوٹھا پکڑیں۔ دونوں کہنی زمین میں لگائیں رکھیں۔ کمبھک کی حالت میں رہکر نظر کو پیچھےکی طرف سر کے پاس لے جانے کی کوشش کریں۔ دانت دبے ہوئے اور منھ بند رکھیں۔ ایک منٹ سے لے کر پانچ منٹ تک مشق بڑھائیں۔ پھر ہاتھ کھولکر، کمر کو زمین سےلگاکر سر اوپر اٹھاکر بیٹھ جائیں۔ پورک کرکے ریچک کریں۔ ایک منٹ سے لے کر پانچ منٹ تک مشق بڑھائیں۔ پھر ہاتھ کھولکر ہاتھوں کی مدد سے سر کو سیدھا کر کےکمر، پیٹھ کو زمین سے لگائیں۔ ایک بار پہر سے ہاتھوں کی مدد سے اٹھکر بیٹھ جائیں۔ آسن کرتے وقت تنفس-سانس کی رفتار برابر بنائے رکھیں۔ پہلے زمین پر لیٹکر پھر پگھاسن لگاکر بھی متسیہ آسن ہو سکتا ہے۔ متسیہ آسن سے فائدہ متسیہ آسن سے پورا جسم مضبوط بنتا ہے۔ گلا، سینہ، پیٹ کی تمام بیماریاں دور ہوتی ہیں۔ نظام تنفس صحیح رہتا ہے۔ کندھون کی نبضیں الٹی مڑتی ہیں اس سے سینہ اور پھیپھڑوں کا ارتقا ہوتا ہے۔ پیٹ صاف رہتا ہے۔ آنتوں کا میل دور ہوتا ہے۔ نظام دوران خون کی رفتار بڑھتی ہے۔ نتیجتاً چمڑےکی بیماری نہیں ہوتی۔ اس آسن سے ریاح خارج کرنے کی رفتار نیچے کی طرف ہونے سے قبض دور ہوتا ہے۔ تھوڑا پانی پیکے یہ آسن کرنے سے قضائےحاجت-پاکیزگی میں مدد ملتی ہے۔ خواتین کی بچہ دانی اور حیض سےمتعلق بیماری دور ہوتی ہیں۔ متسیہ آسن سے خواتین کے حیض سے متعلق سب بیماری دور ہوتی ہیں۔ حیض باقاعدہ بنتا ہے۔ پیٹ کی چربی گھٹتی ہے۔ کھانسی دور ہوتی ہے۔ یہ آسن چہرے اور جلد کو دلکش اور جسم کو کندن بنا دیتا ہے۔ ریڑھ کی خرابی دور ہو جاتی ہیں۔ یہ آسن ٹانسل، ذیابطیس، گھٹنوں اور کمر کے درد کے لئے فائدے مند ہے۔ قبض کو دور کرکے بھوک بڑھاتا ہے اور کھانا ہضم اور پیٹ کا گیس دور کرتا ہے۔ صاف خون پیدا کرتا ہے اور رواں بنا تا ہے۔ احتیاط سینہ اور گلے میں بےشمار درد یا دیگر کوئی بیماری ہونے کی حالت میں یہ آسن نہ کریں۔ انتہائی احتیاط سے یہ آسن کرنا چاہئے، جلدی سے گردن میں موچ آ جانے کا ڈر رہتا ہے، کیونکہ جسم کو بالکل اوپر کر دینا ہوتا ہے۔ یہ آسن ایک منٹ سے پانچ منٹ تک کیا جا سکتا ہے۔ ماخذ : یوگا وگیان، دینک سمارچا